الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمیْنَ، الرَّحْمٰنِ الرَّحیْمِ، مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ، اِیَّاکَ نَعبْدُ وَایَّاکَ نَسْتَعِیْنُ، اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیِمَ، صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِم، غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلا الضَّالِّیْنَ
’’سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہے، نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے، روزِ جزا کا مالک ہے، (اے اللہ!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں، ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا ہے اور نہ (ہی) گمراہوں کا ‘‘
سورۃ الاخلاص
قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَد، اللّٰہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَد، وَلَمْ یکُن لَّہٗ کُفُوًا اَحَدُ
اے نبی مکرّمﷺ! آپ فرما دیجئے : وہ اللہ ہے جو یکتا ہے، اللہ سب سے بے نیازہے، نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ، اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے۔
رکوع
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ۔
’’پاک ہے میرا پروردگار عظمت والا۔‘‘
قومہ
سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہْ۔
’’ اللہ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔‘‘
رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔
’’اے ہمارے پروردگار! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔‘‘
سجدہ
سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی۔
’’پاک ہے میرا پروردگار جو بلند ترہے۔‘‘
جلسہ
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان درج ذیل دعا مانگتے تھے
اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلیْ وَارْحَمْنی وَاھدِنیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقینیْ۔
اے اللہ! مجھے بخش دے اورمجھ پر رحم فرمااورمجھے ہدایت پر قائم رکھ اورمجھے عافیت دے اور مجھے روزی عطا فرما۔
تشہد
التَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰ تُ وَالطَّیِبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہْ، اَلسَّلَامُ عَلَیْناوَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ، اَشھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہْ۔
’’تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی(ﷺ)! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘
درودِ اِبراہیمی
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 2، 3 یا 4 رکعت والی نماز کے قعدہ اخیرہ میں ہمیشہ درودِ ابراہیمی پڑھتے تھے جو درج ذیل ہے
اَللھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍکَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجیْدٌ۔
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیدٌ مَّجیدٌ۔
اے اللہ! رحمتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پرجس طرح تونے رحمتیں نازل کیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کا مستحق بڑابزرگی والا ہے۔
اے اللہ! تو برکتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پرجس طرح تونے برکتیں نازل فرمائیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کا مستحق بڑا بزرگی والا ہے۔‘‘
دعائے ماثورہ
درود شریف کے بعد یہ دعا پڑھیں
رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآء،رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤ مِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابْ۔
اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم رکھنے والا بنا دے، اے ہمارے رب! اور تو میری دعا قبول فرما لے، اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو (بخش دے) اور دیگر سب مومنوں کو بھی، جس دن حساب قائم ہوگا۔